بنگلورو،30؍دسمبر(ایس او نیوز) انسدادگؤکشی قانون کواسمبلی سیشن میں زیربحث لائے بغیرآڈی ننس کے ذریعہ قانون پاس کرنے کی کوشش پرردعمل ظاہرکرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ واپوزیشن لیڈرسدارمیانے سلسلہ وارٹوئٹ کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کوبزدلی قراردیا۔
انہوں نے کہاکہ اگراس قانون کوزیربحث لایاجاتاہے تواس میں موجودنقائص منظرعام پرآجائیں گے اس لیے حکومت نے بزدلی کامظاہرہ کرتے ہوئے اس قانون کوآرڈی ننس کے ذریعہ نافذکیاہے۔ انہوں نے اسمبلی سیشن میں جانوروں کے تحفظ اورگؤکشی پرپابندی عائدکرنے والے آرڈی ننس کومنظوری کے لیے ریاستی گورنرواجوبھائی والا کے پاس روانہ کئے جانے کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ کٹرپنتھیوں کے جذبات کواکساکر سیاسی فائدہ حاصل کرنے اورگؤرکشک کے نام پرغنڈہ گردی کرنے والوں قانونی سہارادینے کے لیے یہ آرڈی ننس لایاگیاہے۔ان دو مقاصد کے علاوہ کوئی اور وجہ معلوم نہیں ہوتی۔حکومت کونہ جانوروں سے ہمدردی ہے اورنہ ان کی دیکھ ریکھ پرتوجہ۔انہوں نے گؤکشی قانون کے مشمولات کامزاق اڑاتے ہوئے کہاکہ عجیب قانون ہے کہ ”گؤکشی پرپابندی ہے اوربیف کے فروخت اورکھانے پرکوئی پابندی نہیں ہے“ اس قسم کا بے ہنگم قانون بنانے کے لیے اتناناٹک کیوں کیاگیاہے؟
انہوں نے وزیراعلیٰ سے سوال کرتے ہوئے کہاکہ ”ایڈی یورپاجی ریاست میں ذبیحہ پرپابندی ہے توبیف فروخت اورکھانے کے لیے گوشت کو بیرون ریاستوں سے گوشت کودرآمد کروائیں گے؟ انہوں نے حکومت کے اس عاقبت نااندیش فیصلہ پرسوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ انسدادگؤکشی کے ا س قانون سے نہ صرف کھانے والے بلکہ کسان اورچرم کے تاجربھی متاثرہوں گے۔چرم سے تیارہونے والی اشیاء کی صنعت بھی متاثرہوگی۔ اس کا راست اثراس صنعت سے جڑے کاروباریوں پر پڑے گا۔اس آمدنی پر منحصر کنبے سڑک پرآجائیں گے۔کورناوائر س اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں افرادبے روزگارہوگئے ہیں۔
انہوں نے بی جے پی قائدین کوتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہاکہ کہاں ہیں وہ جوکہتے آرہے تھے کہ ”ایک ملک،ایک دھرم،ایک زبان“ اس طرح کہنے والوں کوچاہئے تھاکہ وہ کم سے کم ملک بھرمیں اطلاق ہونے والایکساں انسدادگؤکشی قانون جاری کرتے۔انہوں نے مرکزی بی جے پی قیادت کوچیلنج کرتے ہوئے کہاکہ اگرآپ کے پاس دم خم ہے تو بی جے پی حکومت والی گوامیں انسدادگؤکشی قانون نافذکیاجائے۔آپ کی پارٹی یہاں برسراقتدار ہے،وہاں گؤکشی کاقانون لایاجائے۔ ملک سے بڑے پیمانے پربڑے کاگوشت برآمدکیا جاتاہے،ملک سے برآمدکئے جارہے گوشت پرپابندی عائدکی جائے۔ریاستی حکومت کاکہناہے بوڑھی گائیوں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ داری لے گی۔ریاست میں ایسے کتنے گاؤشالہ ہیں جوریاستی حکومت چلارہی ہے۔کیاحکومت نے مزیدگاؤشالاؤں کوکھولاہے؟ ان گؤشالاؤں کے اخراجات کے لیے حکومت نے کتنی رقم مختص کررکھی ہے۔